طبع الطبائع
معنی
١ - طبیعتوں کی طبیعت، فطرتوں کی فطرت، مراد، خالق کائنات، خوائے بزرگ و برتر۔ "سپینوزا کے نزدیک کائنات کا اصلی منبع ایک طبع الطبائع ہے۔" ( ١٩٦٦ء، شاعری اور تخیل، ٦٣ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم 'طبع' کے بعد 'ال' بطور حرف تحصیص لگا کر عربی اسم 'طبع' کی جمع 'طبائع' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو زبان میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٦٦ء کو "شاعری اور تخیل" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - طبیعتوں کی طبیعت، فطرتوں کی فطرت، مراد، خالق کائنات، خوائے بزرگ و برتر۔ "سپینوزا کے نزدیک کائنات کا اصلی منبع ایک طبع الطبائع ہے۔" ( ١٩٦٦ء، شاعری اور تخیل، ٦٣ )